زیر نظر کتاب" اعتکاف" فضائل, احکام ومسائل مع عورت اعتکاف کہاں کرے, مسجد یا گھر؟ دو مقالات کا مجموعہ ہیں , اول الذکر فضیلۃ الشیخ ابوالمنیب محمد على خاصخیلى حفظہ اللہ تعالى کی کاوش اور دوئم فضیلۃ الشیخ محقق العصر ارشادالحق اثرى حفظہ اللہ کی تحقیق ہے -ان دونوں کتابوں میں اعتکاف کے مسائل کے حوالے سے عوام الناس میں جوتشنگی پائی جاتی تھی اسے دور کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی ہے- اردو زبان میں اعتکاف کے موضوع پر سب سے بہتر کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں-
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
كتابِ مذکور میں بدعت کی تعریف ،اسکے اقسام ،اسکے انتشارکے اسباب ، اور اس سے نجات پانے کے ذرائع کے سلسلے میں کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت ہی عمدہ معلومات پیش کی گئی ہیں.
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
یہ وہ معرکۃ الآراء کتاب ھے جسے پڑھ کر لاکھوں لوگوں کو شرک وبدعت سے توبہ اور صاف ستھرے اسلام کی طرف پلٹ آنے کی توفیق نصیب ھوئی ھے، بلکہ یوں کہئے کہ اس کتاب نے دنیائے شرک وبدعت میں ڈیڑھ سو سال سے زلزلہ برپا کر رکھا ھے۔
Author: شاه اسماعيل شهيد
Reveiwers: مشتاق احمد كريمي
Publisher: دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
Source: http://www.islamhouse.com/p/47
زیر نظر کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کا واسطہ جن افراد سے تھا اور جن حضرات کے درمیان آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی گزری،|ان کے مقام ومرتبہ کے فرق اور ذہن وفکر کے اختلافات کو سامنے رکھتے ہوئے ،آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم نے ان کی غلطیوں کے بارے میں جو مختلف انداز کا رویہ اختیارکیا ،ان اسالیب کو جمع کیا جائے-
Author: محمد صالح المنجد
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
زیرنظرکتاب میں عبادات: نماز,روزہ زکو'ۃ, حج ,عمرہ, , ذکر ,دعا,قسم,نذر, قرأت قرآن,اذان,طہارت, وضوء ,غسل,حیض, تیمم,مسح ,جنازہ ,مساجد ,ماہرجب,شعبان,محرم,ربیع الأول, عیدین اورجمعہ کے دن وغیرہ میں پائی جانے والی تمام بدعات کا تفصیلی جائزہ لے کر کتاب وسنت سےانکا ردکیا گیا ہے.
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
Translators: أبو طاهر زبير علي زئي
زیر مطالعہ کتاب میں قرآن وسنت کی روشنی میں نفل نماز کے مفہوم, فضائل, انواع واقسام اور آداب کو ذکر کیا گیا ہے اپنے موضوع پر بہت ہی نادر وجامع تصنیف ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.
Author: سعيد بن علي بن وهف قحطاني
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
Publisher: موسسۃ الجریسی